جمعرات، 5 نومبر 2026
خیبر پختونخوا

پشاور رنگ روڈ آپریشن: مفتی محمود مرکز کے کچھ حصے کی مسماری کا امکان، جے یو آئی کارکنان طلب

پشاور میں تجاوزات کے خلاف آپریشن کی زد میں جے یو آئی (ف) کے صوبائی سیکرٹریٹ مفتی محمود مرکز کا کچھ حصہ آنے کی اطلاعات ہیں، تاہم پی ڈی اے اور جے یو آئی دونوں نوٹس کی تردید کر رہے ہیں۔

شیئر کریں
جمعیت علمائے اسلام (ف) کا مفتی محمود مرکز، رنگ روڈ پشاور
مفتی محمود مرکز، پشاور (فائل فوٹو)

پشاور: رنگ روڈ پر جاری تجاوزات کے خلاف گرینڈ آپریشن کی زد میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے صوبائی سیکرٹریٹ مفتی محمود مرکز کا کچھ حصہ آنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق مرکز کا کچھ حصہ بدھ کو گرائے جانے کا امکان ہے، جس کے پیش نظر جے یو آئی قیادت نے کارکنوں کو صبح 8 بجے سیکرٹریٹ پہنچنے کی ہدایت کی ہے۔

نوٹس کے معاملے پر متضاد موقف

سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ گردش کر رہی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مرکز کو نوٹس جاری کر دیا گیا ہے۔ تاہم رپورٹس کے مطابق پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (پی ڈی اے) سمیت متعلقہ اداروں کا کہنا ہے کہ جے یو آئی سیکرٹریٹ کو کوئی نوٹس جاری نہیں کیا گیا۔ جے یو آئی خیبرپختونخوا کے امیر مولانا عطاء الرحمٰن نے بھی کہا ہے کہ سیکرٹریٹ کو کوئی نوٹس موصول نہیں ہوا۔

سابق میئر حاجی زبیر کا کہنا ہے کہ مفتی محمود مرکز باقاعدہ اجازت نامے اور منظور شدہ نقشے کے مطابق تعمیر کیا گیا ہے اور وہ کسی کو اسے منہدم کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

مفتی محمود مرکز کا پس منظر

مفتی محمود مرکز پشاور کے رنگ روڈ پر واقع جے یو آئی (ف) کا صوبائی سیکرٹریٹ ہے اور جماعت کے اہم صوبائی و ضلعی اجلاس یہیں منعقد ہوتے رہے ہیں۔ یہ مرکز جماعت کے سابق سربراہ مفتی محمود کے نام سے منسوب ہے۔ اگست 2024 میں یوم آزادی کے موقع پر اس کی عمارت پر 25 فٹ لمبا اور 15 فٹ چوڑا قومی پرچم لہرایا گیا تھا، جبکہ رواں برس وزیراعلیٰ سہیل آفریدی بھی مولانا فضل الرحمٰن سے ملاقات کے لیے یہاں آئے تھے۔

مفتی محمود (1919ء تا 1980ء) ممتاز عالمِ دین اور سیاسی رہنما تھے جنہوں نے 1960 کی دہائی میں جمعیت علمائے اسلام کو سیاسی طور پر فعال کیا۔ وہ 1970 کے انتخابات میں ڈیرہ اسماعیل خان سے ذوالفقار علی بھٹو کو شکست دینے کے لیے جانے جاتے ہیں، 1970 کی دہائی کے اوائل میں صوبہ سرحد (موجودہ خیبرپختونخوا) کے وزیراعلیٰ رہے، اور بلوچستان میں نیشنل عوامی پارٹی کی حکومت کی برطرفی کے خلاف احتجاجاً مستعفی ہو گئے تھے۔ وہ بھٹو حکومت کے خلاف پاکستان قومی اتحاد کی تحریک میں بھی نمایاں رہے۔ ان کے بعد جماعت کی قیادت ان کے صاحبزادے مولانا فضل الرحمٰن کے پاس آئی۔

گورنر راج کے بعد صوبے میں تجاوزات کے خلاف کارروائیاں

خیبرپختونخوا میں 11 اکتوبر کو وفاقی حکومت کی سفارش پر صدر مملکت کی منظوری کے بعد گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کی گئی، جس کے بعد گورنر فیصل کریم کنڈی نے صوبے کا انتظامی کنٹرول سنبھالا۔ وفاق نے امن و امان اور دہشت گردی کی صورتحال کو اس فیصلے کی وجہ قرار دیا، جبکہ پی ٹی آئی اسے غیر قانونی کہتے ہوئے پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کر چکی ہے۔ جے یو آئی خیبرپختونخوا بھی اس اقدام کو غیر جمہوری قرار دے چکی ہے۔

گورنر راج کے بعد پشاور میں تجاوزات کے خلاف کارروائیاں تیز ہوئیں۔ 18 اکتوبر کو ڈپٹی کمشنر آفاق وزیر کی ہدایت پر رنگ روڈ کے علاقے گڑھی قمر دین میں بھاری مشینری کے ذریعے آپریشن شروع ہوا۔ اگلے روز گورنر کنڈی نے کوہاٹ روڈ اور رنگ روڈ پر جاری کارروائی کا جائزہ لیتے ہوئے تجاوزات کے خلاف زیرو ٹالرنس کا اعلان کیا، سفارش قبول نہ کرنے کا کہا اور بتایا کہ آپریشن کا دائرہ پورے صوبے تک بڑھایا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ تجاوزات دوبارہ قائم ہوئیں تو متعلقہ حکام ذمہ دار ہوں گے۔

اے پی پی کے مطابق 27 اکتوبر تک رنگ روڈ اور ملحقہ علاقوں میں 560 سے زائد دکانیں، مارکیٹیں اور دیگر غیر قانونی تعمیرات مسمار کی جا چکی ہیں۔ کارروائی جمیل چوک، پیر زکوڑی فلائی اوور اور پشتہ خرہ چوک سمیت ملحقہ مقامات پر بھی جاری ہے۔ پشاور کے شیر پاؤ بازار کے بعد چارسدہ اور نوشہرہ میں بھی آپریشن شروع ہو چکا ہے، جبکہ باجوڑ کے خار بازار اور شنڈئی موڑ میں راستوں سے تجاوزات ہٹائی گئیں اور ناواگئی بازار کے دکانداروں کو نوٹس جاری کیے گئے۔

کمشنر پشاور کیپٹن (ر) خالد محمود نے 23 اکتوبر کو وارسک روڈ، چارسدہ روڈ اور کوہاٹ روڈ پر رائٹ آف وے قوانین پر سختی سے عمل درآمد کا حکم دیا اور محکموں سے سات دن میں تعمیلی رپورٹ طلب کی۔ ڈپٹی کمشنر کے مطابق رنگ روڈ کے بعد اندرون شہر میں بھی کارروائی ہوگی، جس کے لیے نشاندہی مکمل کر کے نوٹس جاری کیے جا چکے ہیں۔ شہریوں کا مطالبہ ہے کہ آپریشن چند مخصوص علاقوں تک محدود نہ رہے بلکہ شہر بھر میں بلا امتیاز کیا جائے۔

مفتی محمود مرکز کے معاملے پر انتظامیہ کا باضابطہ موقف سامنے آنے پر اس خبر کو اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔