نئے صوبے اور صدارتی نظام عمران خان کا منصوبہ تھا، اب وہ حمایت نہیں کریں گے: رانا ثنا اللہ
وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ نئے صوبوں اور صدارتی نظام کا منصوبہ عمران خان کا پروجیکٹ تھا، مگر موجودہ حالات میں وہ خود اس کی حمایت نہیں کریں گے۔
اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ خان نے کہا ہے کہ نئے صوبوں اور صدارتی نظام کے قیام کا منصوبہ عمران خان کا پروجیکٹ تھا، تاہم موجودہ سیاسی حالات میں وہ خود ایسے کسی فارمولے کی حمایت نہیں کریں گے۔
ایک ٹی وی انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر نئے صوبے اور صدارتی نظام لانے کا منصوبہ عمران خان کا تھا۔ ان کے مطابق یہ بات حکومت کے علم میں ہے کہ موجودہ حالات میں عمران خان ایسے کسی منصوبے کی حمایت نہیں کریں گے۔
نئے صوبوں پر اتفاق رائے کی ضرورت
رانا ثنا اللہ نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی گزشتہ روز چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری سے ون آن ون ملاقات ہوئی، جس میں نئے صوبوں کے قیام سمیت دیگر اہم امور پر بات چیت کی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت چاہتی ہے کہ نئے صوبوں سے متعلق کوئی بھی فیصلہ مکمل اتفاق رائے سے کیا جائے اور اس معاملے میں صرف پارلیمنٹ میں موجود جماعتوں ہی نہیں بلکہ پارلیمنٹ سے باہر کی سیاسی جماعتوں کو بھی اعتماد میں لیا جائے۔
رانا ثنا اللہ نے تجویز دی کہ اس اہم قومی معاملے پر تفصیلی بحث اور مشاورت کے لیے ایک پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انتظامی یونٹس کا قیام اور بااختیار بلدیاتی نظام بنیادی اہمیت رکھتے ہیں اور عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیے ان معاملات پر سنجیدگی سے غور ضروری ہے۔
پس منظر
نئے صوبوں کی بحث رواں سال جولائی کے آخر میں اس وقت شروع ہوئی تھی جب وزیر داخلہ محسن نقوی نے گورننس نظام میں اصلاحات کے تحت نئے صوبے بنانے کی بات کی تھی۔ رانا ثنا اللہ اس سے پہلے بھی کئی بار کہہ چکے ہیں کہ اس معاملے کا حتمی فیصلہ پارلیمنٹ ہی کرے گی۔
رانا ثنا اللہ نے اسی انٹرویو میں امریکا سے تعلقات، مولانا فضل الرحمان اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے حوالے سے بھی گفتگو کی۔








