بدھ، 4 نومبر 2026
خیبر پختونخوا

تجاوزات کے خلاف گرینڈ آپریشن: ”کس چیز کا نوٹس؟ آپ نے زمین پر قبضہ کیا ہوا ہے، میں آپ کو نوٹس دوں؟ گورنر خیبرپختونخوا

”کس چیز کا نوٹس؟ آپ نے سرکاری زمین اور عوامی راستوں پر قبضہ کیا ہوا ہے، میں آپ کو کس بات کا نوٹس دوں؟ کسی کو کوئی معافی نہیں ملے گی۔ وہ دن چلے گئے کہ پیسے دے کر یا سیاسی سفارش سے جان چھڑا لی جائے۔“

شیئر کریں

پشاور (ویب ڈیسک): خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور سمیت صوبے کے مختلف اضلاع میں غیر قانونی تجاوزات کے خلاف ضلعی انتظامیہ اور میونسپل کارپوریشنز کی جانب سے ایک وسیع اور بلا تفریق آپریشن کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس مہم کے دوران پختہ تعمیرات، سڑکوں پر قائم غیر قانونی شیڈز، ریڑھی مافیا اور قبضہ شدہ سرکاری و عوامی زمینوں کو واگزار کرانے کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے۔

گورنر خیبر پختونخوا کا سخت ردِعمل

آپریشن کے دوران کچھ حلقوں کی جانب سے نوٹسز نہ ملنے یا وقت فراہم نہ کرنے کی شکایت پر گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے انتہائی سخت اور دوٹوک مؤقف اپنایا ہے۔

ان کا کہنا تھا:

”کس چیز کا نوٹس؟ آپ نے سرکاری زمین اور عوامی راستوں پر قبضہ کیا ہوا ہے، میں آپ کو کس بات کا نوٹس دوں؟ کسی کو کوئی معافی نہیں ملے گی۔ وہ دن چلے گئے کہ پیسے دے کر یا سیاسی سفارش سے جان چھڑا لی جائے۔“

گورنر کے پی نے واضح کیا کہ یہ آپریشن کسی سیاسی انتقام یا مخصوص طبقے کے خلاف نہیں بلکہ عوام کی سہولت، سڑکوں کی کشادگی اور قانون کی بالادستی کے لیے چلایا جا رہا ہے۔

آپریشن کے اہم ترین علاقے

ضلعی انتظامیہ کی ہیوی مشینری نے پشاور کے مرکزی مقامات اور مصروف شاہراہوں پر کارروائیاں شروع کر دی ہیں:

  • رنگ روڈ اور کوہاٹ روڈ: سڑک کنارے قائم غیر قانونی تعمیرات اور تجارتی تجاوزات مسمار۔
  • پشتہ خرہ چوک اور پی ڈی اے ٹول پلازہ: تجارتی راستوں کو واگزار کرا کر ٹریفک کی روانی بحال کی گئی۔
  • شیرپاؤ بازار اور دیگر تجارتی مراکز: فٹ پاتھوں پر قائم عارضی دکانیں اور تجاوزات ختم کر دی گئیں۔

ضلعی حکام کا کہنا ہے کہ پشاور کے بعد نوشہرہ، چارسدہ اور دیگر اضلاع میں بھی کارروائیوں کا دائرہ کار وسیع کیا جا رہا ہے۔

دوبارہ تجاوزات پر افسران کے خلاف کارروائی کا انتباہ

گورنر خیبر پختونخوا نے اعلیٰ سطحی اجلاس میں ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ ایک بار سڑکیں اور بازار واگزار کرانے کے بعد اگر وہاں دوبارہ تجاوزات قائم ہوئیں تو متعلقہ اسسٹنٹ کمشنر اور انتظامی افسران کے خلاف قانونی و انضباطی کارروائی کی جائے گی۔

شہریوں اور مقامی تاجر برادری نے جہاں ٹریفک کے مسائل حل ہونے اور سڑکیں کشادہ ہونے پر اس اقدام کو سراہا ہے، وہیں چھوٹے دکانداروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے روزگار کی تحفظ کے لیے متبادل جگہ کا انتظام کیا جائے۔