جمعرات، 5 نومبر 2026
دنیا

’ہم نہیں چاہتے پاکستان دہشت گردی کا نشانہ بنے‘ امریکی وزیر خارجہ

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ واشنگٹن کو افغانستان سے ہونے والے حملوں پر اسلام آباد کے تحفظات کا علم ہے اور امریکا نہیں چاہتا کہ پاکستان دہشت گردی کا نشانہ بنے۔

شیئر کریں
امریکا کی علامتی تصویر

واشنگٹن: امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکا نہیں چاہتا کہ پاکستان دہشت گردی کا نشانہ بنے۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن کو افغانستان سے ہونے والے حملوں پر اسلام آباد کے تحفظات کا علم ہے۔

مارکو روبیو کے مطابق پاکستان کی تشویش اس بات سے متعلق ہے کہ افغان طالبان ان حملوں کو روکنے کے لیے مناسب کارروائی نہیں کر رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو افغان سرزمین سے اسپانسر کیے جانے والے دہشت گرد حملوں پر تشویش ہے۔

روبیو کے اس بیان کو اس لحاظ سے اہم سمجھا جا رہا ہے کہ اس میں امریکا کی جانب سے پاکستان کے ان خدشات کا کھل کر اعتراف کیا گیا ہے جو وہ سرحد پار عسکریت پسندی کے بارے میں مسلسل اٹھاتا آ رہا ہے۔ فی الحال اس بیان پر پاکستان یا افغان طالبان کی جانب سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

معاملہ کیا ہے؟

پاکستان کا مؤقف ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ٹھکانے افغانستان میں موجود ہیں، جہاں سے وہ پاکستان کے اندر حملوں کی منصوبہ بندی اور کارروائیاں کرتی ہے۔ اسلام آباد بارہا افغان طالبان انتظامیہ سے مطالبہ کر چکا ہے کہ وہ ان گروہوں کے خلاف ٹھوس اقدامات کرے۔ دوسری جانب کابل ان الزامات کی تردید کرتا ہے اور کہتا ہے کہ اس کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہو رہی۔

ٹی ٹی پی ایک الگ تنظیم ہے جو افغان طالبان سے مختلف ہے، تاہم دونوں کے درمیان تاریخی، نظریاتی اور ذاتی روابط پائے جاتے ہیں۔ ٹی ٹی پی کا بنیادی مقصد پاکستان میں افغان طالبان طرز کی حکومت قائم کرنا بتایا جاتا ہے۔

پس منظر: پاک افغان کشیدگی کیسے بڑھی؟

اگست 2021 میں افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے ٹی ٹی پی کے حملوں میں اضافہ ہوا۔ مسلح تنازعات کا ریکارڈ رکھنے والے ادارے ایکلیڈ (ACLED) کے مطابق 2025 میں ٹی ٹی پی نے ایک ہزار سے زیادہ حملے کیے۔

اکتوبر 2025 میں دونوں ممالک کے درمیان سرحدی جھڑپیں شدید ہوئیں اور پاکستان نے افغانستان کے اندر کارروائیاں کیں۔ 15 اکتوبر 2025 کو 48 گھنٹے کی عارضی جنگ بندی پر اتفاق ہوا، جبکہ دوحہ میں طے پانے والی جنگ بندی بھی زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی۔

فروری 2026 میں پاکستان نے ’آپریشن غضب للحق‘ کا آغاز کیا، جس میں ملک کے اندر انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیوں کے ساتھ ساتھ سرحد پار فضائی اور ڈرون حملے بھی شامل تھے۔ 27 فروری 2026 کو پاکستانی وزیر دفاع نے افغانستان کے ساتھ ’کھلی جنگ‘ کا اعلان کیا۔ اس کے بعد سرحد پر جھڑپوں میں سینکڑوں افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے تحت کام کرنے والی مانیٹرنگ ٹیم کی دسمبر 2025 سے جون 2026 تک کی رپورٹ میں بھی ٹی ٹی پی کو ملنے والی مسلسل معاونت کو پاکستان میں حملوں کی بڑھتی تعداد اور شدت کی ایک وجہ قرار دیا گیا۔ ستمبر اور اکتوبر 2026 میں بھی پاکستان کی جانب سے افغان صوبوں میں مبینہ دہشت گرد ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کی خبریں سامنے آئیں۔

امریکا کا مؤقف

مارکو روبیو ماضی میں بھی افغان طالبان کے بارے میں سخت مؤقف اپنا چکے ہیں۔ وہ کہہ چکے ہیں کہ طالبان کا افغانستان پر مکمل کنٹرول نہیں اور اس سے القاعدہ اور داعش خراسان جیسے گروہوں کو کارروائی کے مواقع ملتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا تھا کہ طالبان کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دینے کا معاملہ ایک بار پھر زیر جائزہ ہے۔

حال ہی میں روبیو نے بھارت میں ایک انٹرویو کے دوران کہا تھا کہ پاکستان کے ساتھ امریکا کے بڑھتے روابط بھارت کے ساتھ تعلقات کی قیمت پر نہیں ہیں اور دہشت گردی پر واشنگٹن اور نئی دہلی کے خدشات مشترک ہیں۔

یہ رپورٹ مختلف بین الاقوامی اور مقامی ذرائع کی معلومات کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔