بدھ، 4 نومبر 2026
دنیا

اسرائیل انتخابات: ریکارڈ ووٹنگ، نیتن یاہو کی حکومت کو سخت چیلنج

اسرائیل کے عام انتخابات میں ووٹرز کی شرکت 1973 کے بعد بلند ترین سطح پر رہی۔ نیتن یاہو کو سابق آرمی چیف گیڈی آئزنکوٹ اور نفتالی بینیٹ کا سامنا ہے۔

شیئر کریں
اسرائیل کا قومی پرچم
اسرائیل میں عام انتخابات ریکارڈ ووٹنگ کے ساتھ ہوئے

یروشلم: اسرائیل میں منگل کو ہونے والے عام انتخابات میں ووٹرز کی شرکت ریکارڈ سطح پر رہی، جسے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے 19 سالہ اقتدار کے لیے اب تک کا سب سے بڑا امتحان قرار دیا جا رہا ہے۔ مرکزی الیکشن کمیٹی کے مطابق 1973 میں اعداد و شمار کا ریکارڈ شروع ہونے کے بعد ٹرن آؤٹ بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ یہ 7 اکتوبر 2023 کے حملوں اور اس کے بعد غزہ، لبنان اور ایران کی جنگوں کے بعد ملک کا پہلا عام انتخاب ہے۔

اسرائیل کا قومی پرچم
اسرائیل کا قومی پرچم (علامتی تصویر)

ٹرن آؤٹ کی صورتحال

الیکشن کمیٹی کے مطابق دوپہر 2 بجے تک 44.9 فیصد ووٹرز ووٹ ڈال چکے تھے، جبکہ شام 4 بجے یہ شرح 55.7 فیصد ہو گئی، جو اس وقت تک کسی بھی انتخاب میں سب سے زیادہ ہے۔ اس کے مقابلے میں 2022 کے انتخاب میں حتمی ٹرن آؤٹ 70.6 فیصد رہا تھا۔ عرب ووٹرز کی بڑی تعداد بھی پولنگ اسٹیشنوں پر پہنچی؛ 2022 میں ان کی شرکت 53.2 فیصد تھی جبکہ ماہرین کے اندازے کے مطابق اس بار یہ 70 فیصد کے قریب جا سکتی ہے۔

نیتن یاہو نے یروشلم میں ووٹ ڈالنے کے بعد ایک ویڈیو پیغام میں اپنے حامیوں سے فوری طور پر باہر نکلنے کی اپیل کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مخالفین انتخاب میں گڑبڑ کی کوشش کر رہے ہیں اور نیگیف میں تین افراد کی گرفتاری کا حوالہ دیا، جن پر ایک اسلامی جماعت کے لیے ووٹ خریدنے کا شبہ ہے۔

2019 کے بعد چھٹا انتخاب

سیاسی عدم استحکام کے باعث اسرائیل 2019 سے اب تک چھ مرتبہ ووٹ ڈال چکا ہے۔ اپریل 2019، ستمبر 2019، مارچ 2020، مارچ 2021 اور نومبر 2022 کے پانچ انتخابات کے بعد موجودہ انتخاب چھٹا ہے۔ ابتدائی چار انتخابات میں کوئی واضح اکثریت سامنے نہ آ سکی تھی۔

تین بڑے امیدوار

  1. بنیامین نیتن یاہو (لیکود): اسرائیل کے طویل ترین وزیراعظم، جو 1996 سے اب تک چھ انتخابات جیت چکے ہیں اور ساتویں کامیابی کے لیے میدان میں ہیں۔
  2. گیڈی آئزنکوٹ (یشر): سابق آرمی چیف، جنہوں نے ستمبر 2025 میں اپنی جماعت بنائی۔ ان کا بیٹا دسمبر 2023 میں غزہ کی جنگ میں مارا گیا تھا۔ آخری سرویز میں ان کی جماعت 22 نشستوں کے ساتھ آگے رہی۔
  3. نفتالی بینیٹ (ٹوگیدر): سابق وزیراعظم، جن کی جماعت کو آخری سرویز میں تقریباً 14 نشستیں ملتی دکھائی گئیں۔

مبصرین اور سیاستدانوں کے بیانات

اے ایف پی سے گفتگو میں تجزیہ کار تال ایلووٹس کا کہنا تھا کہ آئزنکوٹ کا سادہ اور غیر جارحانہ انداز متوسط طبقے کو متاثر کرتا ہے، اسی لیے ان کے حامی انہیں ایک ذمہ دار متبادل سمجھتے ہیں۔ ایک اور ماہر ابو راس کے مطابق 7 اکتوبر کے بعد ملک میں قومی اتفاقِ رائے قائم ہے، تاہم عرب جماعتوں کے ساتھ اتحاد بنانے پر سیاسی پابندیاں اب بھی موجود ہیں۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں آئزنکوٹ نے 27 اکتوبر کو ان لوگوں کی کامیابی کا دن قرار دیا تھا جو ملک کی خدمت اور قربانی دیتے ہیں، اور کہا تھا کہ اسرائیل کو کامیاب ہونا ہے۔

نتائج کا انتظار

اسرائیلی ٹی وی چینلز کے آخری سرویز کے مطابق مقابلہ سخت ہے۔ کان چینل کے سروے میں آئزنکوٹ کا اتحاد 52 اور نیتن یاہو کا اتحاد 50 نشستوں پر دکھایا گیا، جبکہ 120 رکنی کنیسٹ میں حکومت بنانے کے لیے 61 نشستیں درکار ہوتی ہیں۔ یوں کسی بھی فریق کے لیے اتحادی حکومت بنانا آسان نہیں ہوگا۔ سرکاری نتائج آنے میں وقت لگ سکتا ہے، اور اصل تصویر انہی کے بعد واضح ہوگی۔