بدھ، 4 نومبر 2026
دنیا

اسرائیلی انتخابات: نیتن یاہو کی لیکود سب سے بڑی جماعت، کسی بلاک کو واضح اکثریت نہ مل سکی

اسرائیلی انتخابات کے ابتدائی نتائج میں لیکود 28 نشستوں کے ساتھ آگے ہے، تاہم نیتن یاہو اور آئزن کوٹ دونوں کے بلاکس 61 نشستوں کی اکثریت سے دور ہیں۔

شیئر کریں

اسرائیل میں منگل کو ہونے والے عام انتخابات کے ابتدائی نتائج کے مطابق وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی جماعت لیکود سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری ہے، تاہم کوئی بھی بلاک 120 رکنی کنیسٹ میں حکومت بنانے کے لیے درکار 61 نشستیں حاصل کرتا دکھائی نہیں دے رہا۔

الیکشن کمیٹی کے جزوی نتائج کے مطابق تقریباً 60 فیصد پولنگ اسٹیشنوں کی گنتی مکمل ہونے پر لیکود 28 نشستوں کے ساتھ آگے ہے، جبکہ سابق آرمی چیف گادی آئزن کوٹ کی جماعت “یشار” 21 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔ نیتن یاہو کے دائیں بازو اور مذہبی جماعتوں کے اتحاد کو 56 نشستیں مل رہی ہیں، یعنی اکثریت سے پانچ کم۔ آئزن کوٹ کی قیادت میں اپوزیشن بلاک 48 نشستوں پر ہے، جبکہ دو عرب جماعتیں، جوائنٹ لسٹ اور رعام، مجموعی طور پر 16 نشستیں حاصل کرتی نظر آ رہی ہیں۔

انتخابات میں ووٹرز کی شرکت 77.7 فیصد رہی، جو 1999 کے بعد سب سے زیادہ ہے۔ 2022 کے مقابلے میں ٹرن آؤٹ میں 7.1 پوائنٹ کا اضافہ ہوا۔

نتائج کے بعد نیتن یاہو نے حامیوں سے خطاب میں دعویٰ کیا کہ لیکود کا کوئی مقابلہ نہیں اور دائیں بازو کے بلاک کو واضح اکثریت حاصل ہے، تاہم موجودہ اعداد و شمار اس دعوے کی تائید نہیں کرتے۔ انہوں نے “قومی دائیں بازو کی حکومت” بنانے کی اپیل کی۔ دوسری جانب آئزن کوٹ نے کہا کہ عوام نے تبدیلی کے حق میں ووٹ دیا ہے اور پرانا دور ختم ہو چکا۔ ڈیموکریٹس کے رہنما یائر گولان نے بھی کہا کہ ووٹرز نے نیتن یاہو حکومت کو برطرف کر دیا ہے۔

رعام پارٹی کے سربراہ منصور عباس نے امید ظاہر کی کہ حتمی نتائج میں اپوزیشن اور ان کی جماعت مل کر 61 نشستوں تک پہنچ جائیں گے۔ تاہم نیتن یاہو کا بلاک عرب جماعتوں کے ساتھ تعاون نہیں کرے گا اور اپوزیشن کے بعض رہنما بھی اس امکان کو مسترد کر چکے ہیں۔

اب حتمی گنتی جمعے تک متوقع ہے، جبکہ سرکاری نتائج 4 نومبر کو جاری کیے جائیں گے۔ اس کے بعد صدر اسحاق ہرزوگ جماعتوں کے رہنماؤں سے مشاورت کر کے کسی کو حکومت سازی کی دعوت دیں گے، جسے حکومت بنانے کے لیے 42 دن ملیں گے۔ اگر کوئی حکومت نہ بن سکی تو نیتن یاہو کی موجودہ کابینہ نگران حکومت کے طور پر کام کرتی رہے گی اور نئے انتخابات کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔

نوٹ: یہ نتائج ابتدائی ہیں اور حتمی گنتی میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔