جمعرات، 5 نومبر 2026
ٹیکنالوجی

واٹس ایپ ویب اور ڈیسک ٹاپ پر سائبر حملوں کا خطرہ، نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم کا ہائی الرٹ جاری

نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم نے واٹس ایپ ویب، ڈیسک ٹاپ اور ای میل کے ذریعے فشنگ اور میلویئر حملوں کے خدشے پر ہائی الرٹ جاری کرتے ہوئے سرکاری حکام اور حساس معلومات رکھنے والے افراد کو خصوصی احتیاط کی ہدایت کی ہے۔

شیئر کریں
واٹس ایپ ویب اور ڈیسک ٹاپ پر سائبر حملوں کے خطرے کی علامتی تصویر
علامتی تصویر

اسلام آباد: نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم (این سی ای آر ٹی) نے واٹس ایپ ویب، واٹس ایپ ڈیسک ٹاپ اور ای میل کے ذریعے ممکنہ سائبر حملوں کے پیش نظر ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ ٹیم کی جانب سے جاری کردہ ایڈوائزری میں سرکاری حکام اور حساس معلومات رکھنے والے افراد کو خصوصی احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

حملہ آور کیسے نشانہ بنا رہے ہیں؟

ایڈوائزری کے مطابق حملہ آور خود کو سرکاری افسران یا محکموں کا نمائندہ ظاہر کر کے صارفین کو ایسی مشکوک فائلیں بھیج رہے ہیں جو ونڈوز پر مبنی کمپیوٹرز کو متاثر کر سکتی ہیں۔ ایسی فائلوں کے ذریعے کمپیوٹر تک ریموٹ رسائی، پاس ورڈز کی چوری اور خفیہ ڈیٹا تک رسائی ممکن ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ واٹس ایپ ویب سیشن ہائی جیک ہونے کا خطرہ بھی ظاہر کیا گیا ہے، جس کے بعد حملہ آور متاثرہ شخص کے نمبر سے اس کے رابطوں کو جعلی پیغامات بھیج کر دھوکا دہی کر سکتے ہیں۔

خطرے کی علامات

این سی ای آر ٹی کے مطابق جان پہچان کے نمبروں سے اچانک موصول ہونے والے غیر متوقع پیغامات یا فائلیں ممکنہ سائبر حملے کی علامت ہو سکتی ہیں۔ اسی طرح واٹس ایپ اکاؤنٹ کے "لنکڈ ڈیوائسز" میں کسی نامعلوم ڈیوائس کی موجودگی بھی اس بات کا اشارہ ہو سکتی ہے کہ اکاؤنٹ تک غیر مجاز رسائی حاصل کی جا چکی ہے۔

ایڈوائزری میں دی گئی ہدایات

  • حساس معلومات سنبھالنے والے سرکاری حکام ونڈوز سسٹمز پر واٹس ایپ ویب اور ڈیسک ٹاپ کے استعمال سے گریز کریں۔
  • واٹس ایپ کے ذریعے موصول ہونے والی فائلیں سرکاری ونڈوز کمپیوٹرز پر منتقل نہ کی جائیں۔
  • مشکوک واٹس ایپ ویب سیشنز فوری طور پر ختم کیے جائیں اور لنکڈ ڈیوائسز کی باقاعدگی سے جانچ کی جائے۔
  • غیر تصدیق شدہ لنکس، فائلوں اور ای میلز میں دی گئی ہدایات پر عمل نہ کیا جائے، اور غیر متوقع پیغام کھولنے سے پہلے اس کی آزادانہ تصدیق کی جائے۔
  • پاس ورڈ، ون ٹائم پاس ورڈ (او ٹی پی) یا تصدیقی کوڈ کسی کے ساتھ شیئر نہ کیا جائے۔
  • واٹس ایپ میں ٹو اسٹیپ ویریفکیشن اور دیگر اکاؤنٹس میں ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن فعال رکھی جائے۔
  • ونڈوز، انٹرنیٹ براؤزرز اور دیگر سافٹ ویئر کو اپ ڈیٹ رکھا جائے۔

حملے کا شبہ ہو تو کیا کریں؟

ایڈوائزری کے مطابق اگر کسی ڈیوائس کے متاثر ہونے کا شبہ ہو تو اسے فوری طور پر انٹرنیٹ اور دیگر نیٹ ورکس سے منقطع کر دیا جائے، متعلقہ پیغامات اور سسٹم لاگز بطور ثبوت محفوظ رکھے جائیں اور مشکوک فائل دوبارہ نہ کھولی جائے۔ سرکاری محکموں اور نامزد فوکل پرسنز کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ یہ انتباہ اپنے عملے تک فوری پہنچائیں۔

سائبر سکیورٹی ماہرین کے مطابق واٹس ایپ دنیا بھر میں رابطے کا مقبول ذریعہ ہے، اس لیے معمولی غفلت بھی صارفین کے ذاتی ڈیٹا اور ڈیجیٹل معلومات کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ آن لائن سرگرمیوں کے دوران احتیاط، مضبوط پاس ورڈز اور حساس معلومات کا محفوظ استعمال ہی ممکنہ حملوں سے بچاؤ کا بہترین طریقہ ہے۔