مفتی محمود مرکز کا فیصلہ انتظامیہ کرے گی، میرا گھر بھی تجاوزات میں ہو تو گرا دیں: گورنر کنڈی
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ تجاوزات ختم کی جائیں گی، مفتی محمود مرکز کی حیثیت کا فیصلہ انتظامیہ کرے گی اور وہ کسی کی سفارش نہیں کریں گے۔
پشاور: گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ صوبے میں غیر قانونی تجاوزات ختم کی جائیں گی اور مفتی محمود مرکز کی حیثیت کا فیصلہ متعلقہ انتظامیہ کرے گی۔ جمعرات کو پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر نے واضح کیا کہ وہ تجاوزات کے معاملے میں کسی کی سفارش نہیں کریں گے، حتیٰ کہ اگر ان کا اپنا گھر بھی تجاوزات کی زد میں آتا ہے تو اسے بھی گرا دیا جائے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پشاور میں جاری تجاوزات مخالف آپریشن کے دوران جمعیت علمائے اسلام (ف) کے صوبائی سیکرٹریٹ مفتی محمود مرکز کے کچھ حصے کو مبینہ طور پر تجاوزات میں شمار کیے جانے پر سیاسی اور سکیورٹی کشیدگی پائی جاتی ہے۔
گورنر کنڈی نے کیا کہا؟
- جن لوگوں نے سرکاری یا دیگر مقامات پر تجاوزات قائم کر رکھی ہیں، انہیں جگہ خالی کرنا ہوگی۔
- مفتی محمود مرکز کی حیثیت کے بارے میں فیصلہ متعلقہ انتظامیہ کرے گی۔
- جو لوگ دوسروں کو انصاف اور دین کا سبق دیتے ہیں، اگر وہ خود قبضہ مافیا بن جائیں تو باقی لوگوں کو کیا سبق دیں گے؟
- تجاوزات سے متعلق تمام معاملات متعلقہ محکمہ شفاف طریقے سے دیکھ رہا ہے۔
- میں کسی کی سفارش نہیں کروں گا، اگر میرا اپنا گھر بھی تجاوزات میں آتا ہے تو اسے بھی گرا دیا جائے۔
گورنر کے مطابق مشیر اطلاعات نے بھی ایک روز قبل واضح کیا تھا کہ جن افراد نے تجاوزات پر قبضہ کر رکھا ہے، وہ جگہ خالی کر دیں۔ اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق گورنر نے یہ بھی کہا کہ بااختیار شخصیات عوام کے لیے مثال ہوتی ہیں اور جو علما خود زمین پر قبضہ کر کے دوسروں کو چوری سے منع کریں، وہ متضاد مثال قائم کرتے ہیں۔
ڈبلیو ای نیوز کے مطابق گورنر نے جے یو آئی خیبرپختونخوا کے امیر مولانا عطاء الرحمٰن کے سخت بیان پر ردعمل میں کہا کہ وہ ابھی ان کے ہم پلہ نہیں، اس لیے ان کی دھمکی پر بات نہیں کریں گے۔
مفتی محمود مرکز کا معاملہ کیا ہے؟
مفتی محمود مرکز پشاور میں جے یو آئی (ف) کا صوبائی سیکرٹریٹ ہے۔ ڈبلیو ای نیوز کے مطابق تین منزلہ عمارت کا نقشہ 2003 میں منظور ہوا تھا جبکہ سابق وزیراعلیٰ اکرم خان درانی نے 2007 میں اس کا افتتاح کیا۔ عمارت میں صوبائی عہدیداروں کے کمروں اور تنظیمی دفاتر کے علاوہ میڈیا سیل بھی موجود ہے۔
مشرق ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مرکز کا کچھ حصہ تجاوزات میں شامل ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر بلڈنگ کنٹرول زوہیب حسن کی جانب سے نوٹس جاری ہوا اور انتظامیہ کے مطابق مرکز کا متعلقہ حصہ 52 فٹ کی مقررہ حد میں آتا ہے۔
تاہم نوٹس کے معاملے پر دعوے مختلف ہیں۔ ڈبلیو ای نیوز نے ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ ممکنہ مزاحمت اور ناخوشگوار صورتحال سے بچنے کے لیے پی ڈی اے نوٹس کے اجرا سے گریزاں ہے، جبکہ جے یو آئی کا کہنا ہے کہ اسے کوئی باقاعدہ نوٹس موصول نہیں ہوا۔
جے یو آئی کا مؤقف
نوٹس کی اطلاعات کے بعد انصار الاسلام کے رضاکار، پارٹی کارکن، صوبائی قائدین اور اراکین پارلیمنٹ مرکز پہنچنا شروع ہو گئے اور رضاکاروں نے مرکز کا کنٹرول سنبھال لیا۔
جے یو آئی کے صوبائی ترجمان عبدالجلیل جان کے مطابق صوبائی امیر سینیٹر مولانا عطاء الرحمٰن کی سربراہی میں وفد نے چیف سیکریٹری سے ملاقات کی، جس کے بعد بننے والی کمیٹی نے ڈپٹی کمشنر پشاور سے ملاقات کر کے پارٹی کا مؤقف پیش کیا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ڈپٹی کمشنر نے علاقے میں سکیورٹی خطرات کا اعتراف کیا اور مرکز کے لیے مشکلات پیدا کرنے کا کوئی ارادہ نہ ہونے کی بات کی۔ عبدالجلیل جان کا کہنا تھا کہ انہیں نوٹس کا علم سوشل میڈیا سے ہوا۔
جے یو آئی کا مؤقف ہے کہ مرکز کے سامنے سروس روڈ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر انتظامیہ نے خود بند کر رکھا ہے اور عمارت کے اندر پولیس چوکی بھی متعلقہ حکام کی منظوری سے قائم ہے، اس لیے مرکز کو غیر قانونی تجاوزات میں کیسے شمار کیا جا سکتا ہے؟
مرکز کے نگران مولانا احمد درویش نے کہا کہ عمارت کا نقشہ پی ڈی اے سے باقاعدہ منظور شدہ ہے اور اگر کسی تعمیر پر اعتراض تھا تو متعلقہ حکام کو پہلے ہی نشاندہی کرنی چاہیے تھی۔ ان کے مطابق مرکز میں کوئی غیر قانونی تجاوزات نہیں کی گئیں۔
حکومتی مؤقف: کسی کے ساتھ زیادتی نہیں ہوگی
مشیر اطلاعات خیبرپختونخوا ثمر ہارون بلور نے کہا کہ تجاوزات کے خلاف آپریشن میں کسی کے ساتھ زیادتی نہیں ہوگی اور نہ ہی کسی کی سفارش قبول کی جائے گی۔ ان کے مطابق کسی کو خوش کرنے یا کسی سے انتقام لینے کے لیے کوئی عمارت نہیں گرائی جا رہی بلکہ سرکاری زمین پر قائم تجاوزات کے خلاف کارروائی ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب تک کسی کی نجی ملکیت کو نقصان نہیں پہنچایا گیا اور مقصد پشاور میں ٹریفک کی روانی کے لیے راستے کھولنا اور نکاسی آب کا نظام بہتر بنانا ہے۔
پس منظر: ہماری پچھلی خبریں
پشاور میں تجاوزات کے خلاف کارروائیاں پچھلے کئی دنوں سے جاری ہیں۔ مشرق ٹی وی کی 23 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق ضلعی انتظامیہ نے رنگ روڈ اور ملحقہ علاقوں میں 400 سے زائد دکانیں، مارکیٹیں اور دیگر غیر قانونی تعمیرات مسمار کی تھیں۔ اس معاملے پر خوشحال پاکستان اپڈیٹس کی پہلے شائع شدہ خبریں یہاں پڑھیں:
- تجاوزات کے خلاف گرینڈ آپریشن: گورنر خیبرپختونخوا کا دوٹوک مؤقف (22 اکتوبر)
- پشاور رنگ روڈ آپریشن: مفتی محمود مرکز کے کچھ حصے کی مسماری کا امکان، جے یو آئی کارکنان طلب (28 اکتوبر)
- مفتی محمود مرکز پشاور: انصار الاسلام نے سکیورٹی سنبھال لی (28 اکتوبر)
اب آگے کیا ہوگا؟
خبر لکھے جانے تک مفتی محمود مرکز کے خلاف کسی عملی کارروائی کی تصدیق سامنے نہیں آئی۔ گورنر کے بیان کے مطابق مرکز کی حیثیت کا حتمی فیصلہ ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ محکمے کریں گے۔ پی ڈی اے یا انتظامیہ کی جانب سے کوئی نیا بیان یا کارروائی سامنے آئی تو اس خبر کو اپڈیٹ کیا جائے گا۔
ذرائع: ڈبلیو ای نیوز، اے آر وائی نیوز، مشرق ٹی وی، روزنامہ قدرت







