بدھ، 4 نومبر 2026
خیبر پختونخوا

خیبر پختونخوا میں معدنیات کے شعبے میں 16 ارب 94 کروڑ روپے سے زائد کی مبینہ کرپشن کا انکشاف

شیئر کریں

پشاور: خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے دورِ حکومت میں محکمہ معدنیات کے مالی معاملات میں مبینہ بے ضابطگیوں اور اربوں روپے کے نقصان کا انکشاف ہوا ہے۔ سرکاری آڈٹ رپورٹ کے مطابق صوبائی خزانے کو صرف ایک سال کے دوران 16 ارب 94 کروڑ روپے سے زائد کا نقصان پہنچنے کی نشاندہی کی گئی ہے۔

آڈٹ رپورٹ میں غیر قانونی کان کنی، ٹھیکے داروں سے واجبات کی عدم وصولی اور تعمیراتی منصوبوں کے لیے ریت اور بجری کے غیر قانونی استخراج سمیت متعدد معاملات کی نشاندہی کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق سال 2022 اور 2023 کے دوران غیر قانونی کان کنی کے ذریعے 8 ارب روپے سے زائد مالیت کی مبینہ بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا۔ اسی طرح نادہندہ ٹھیکے داروں سے 4 ارب 31 کروڑ روپے کے واجبات وصول نہ کیے جانے کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔

آڈٹ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ محکمہ معدنیات کی چیک پوسٹوں اور انسپکٹرز کی موجودگی کے باوجود صوبے کے مختلف علاقوں میں غیر قانونی کان کنی جاری رہی، جس کے نتیجے میں سرکاری محصولات کی مد میں مزید 3 ارب 8 کروڑ روپے کے نقصان کی نشاندہی کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق شاہراہوں اور چھوٹے ڈیموں کی تعمیر کے لیے ریت اور بجری کے غیر قانونی استخراج سے بھی صوبائی خزانے کو تقریباً 3 ارب 7 کروڑ روپے کا نقصان پہنچنے کا انکشاف ہوا ہے۔

آڈٹ رپورٹ میں سامنے آنے والے یہ اعداد و شمار محکمہ معدنیات کے نگرانی کے نظام، سرکاری واجبات کی وصولی اور قدرتی وسائل کے انتظام سے متعلق سنگین سوالات اٹھاتے ہیں۔

تاہم، آڈٹ اعتراضات اور مالی بے ضابطگیوں کی نشاندہی بذاتِ خود کسی فرد یا سیاسی جماعت کے خلاف کرپشن کے الزامات کو عدالتی طور پر ثابت نہیں کرتی۔ ان معاملات کی حتمی ذمہ داری کا تعین متعلقہ حکام کی تحقیقات اور قانونی کارروائی کے بعد ہی کیا جا سکتا ہے۔

نوٹ: خبر میں مالی اعداد و شمار فراہم کردہ متن کے مطابق شامل کیے گئے ہیں۔ اشاعت سے قبل اصل آڈٹ رپورٹ، متعلقہ مالی سال اور نقصان کی مجموعی رقم کی تصدیق ضروری ہے۔