جمعرات، 5 نومبر 2026
پاکستان

اب ریاست سے نہ پیسے ملیں گے نہ نوکری، محسن نقوی کا مولانا فضل الرحمان کو دوٹوک جواب

وزیر داخلہ محسن نقوی نے سینیٹ میں مولانا فضل الرحمان کے قومی اسمبلی میں خطاب پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ریاست مخالف باتوں کے بعد ان کے لیے احترام کی گنجائش نہیں رہی۔

شیئر کریں

اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے جمعرات کو سینیٹ میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو سخت جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ پہلے مولانا کا بہت احترام کرتے تھے، تاہم ریاست سے متعلق ان کے حالیہ بیان کے بعد ان کے دل میں احترام باقی نہیں رہا۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ اب انہیں ریاست سے نہ پیسے ملیں گے اور نہ ہی نوکری۔

مولانا فضل الرحمان نے کیا کہا تھا؟

مولانا فضل الرحمان نے بدھ کو قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے حکومت اور بالخصوص وزیر دفاع خواجہ آصف کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران میں دفاعی معاہدے سے متعلق بات چیت ہو رہی تھی جبکہ وزیر دفاع ایوان میں بیٹھے تھے۔ انہوں نے یہ نکتہ بھی اٹھایا کہ وزیر دفاع اور وزیر خارجہ دونوں کے پاکستان میں موجود ہونے کے باوجود اس معاملے میں وزارت داخلہ کی ذمہ داری کیا بنتی ہے۔ اس موقع پر انہوں نے خواجہ آصف کا اپنا مشہور جملہ ان ہی کے خلاف استعمال کیا اور محسن نقوی کے ایران کے دوروں پر بھی سوالات اٹھائے۔

مولانا کا اشارہ پیر کو تہران میں ہونے والی اعلیٰ سطحی ملاقات کی جانب تھا، جس میں چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر، سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان اور ترک انٹیلی جنس سربراہ ابراہیم کالن نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقات کی تھی۔ ملاقات کا محور خطے کی سلامتی اور کشیدگی میں مزید اضافے کی روک تھام بتایا گیا۔ اسی خطاب میں مولانا فضل الرحمان نے ایوان کے دونوں جانب بیٹھے ارکان پر زور دیا کہ نیا میثاق جمہوریت تیار کیا جائے۔

خواجہ آصف کا جواب

جمعرات کو قومی اسمبلی میں جواب دیتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ تہران کا اجلاس وزارت دفاع سے متعلق نہیں تھا اور وہاں پاکستان کے دفاعی انتظامات زیر بحث آئے نہ کسی نئے دفاعی معاہدے پر بات ہوئی، اس لیے ان کی شرکت ضروری نہیں تھی۔ ان کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر خطے میں امن کی راہ ہموار کرنے کے لیے گئے تھے۔

خواجہ آصف نے مولانا فضل الرحمان کی ملکی خدمات کا اعتراف کیا، مگر کہا کہ دوسروں پر تنقید سے پہلے انہیں اپنے سیاسی کردار پر بھی نظر ڈالنی چاہیے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ مولانا مختلف حکومتوں کا حصہ رہے اور کئی جماعتوں کے ساتھ تعاون کرتے رہے ہیں، جبکہ قومی اسمبلی کی کشمیر کمیٹی کے تقریباً دس برس چیئرمین رہنے کے دوران ان کی کارکردگی پر بھی سوال اٹھایا۔ وزیر دفاع نے مولانا کی تقریر کو "بلیک میلنگ" قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ اس کا مقصد خیبر پختونخوا حکومت میں حصہ حاصل کرنا اور حکومتی اتحاد کا حصہ بننے کی راہ ہموار کرنا تھا۔

محسن نقوی نے آج کیا کہا؟

سینیٹ میں خطاب کے دوران محسن نقوی نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے گزشتہ روز یہ غلط کہا کہ وہ دفاعی معاہدے کے لیے ایران گئے تھے۔ ان کے مطابق وہ اپنے شوق سے کہیں نہیں جاتے، بلکہ وزیراعظم شہباز شریف کی خصوصی ہدایت پر ایران کے حالیہ بحران سے نمٹنے کے لیے دورے کرتے ہیں اور اس اجلاس میں ان کی موجودگی خاص طور پر اسی سلسلے میں طلب کی گئی تھی۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ وہ مولانا کا بہت احترام کرتے تھے، مگر ریاست سے متعلق ان کے بیان کے بعد احترام کی کوئی گنجائش نہیں رہی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ جب تک ریاست سے فائدے ملتے رہیں تب تک ریاست اچھی لگتی ہے اور جب حصہ نہ ملے تو ریاست کے خلاف باتیں شروع ہو جاتی ہیں۔ محسن نقوی کے مطابق بعض سیاسی شخصیات اسلام کو کاروبار اور سیاست کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ذہن نشین کر لیں، اب ریاست سے نہ پیسے ملنے ہیں، نہ نوکری اور نہ ٹکٹ۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ گورنر راج سے پہلے جے یو آئی کے لوگ بعض شخصیات سے جان چھڑانے کی بات کرتے تھے، مگر اب مؤقف بدل چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تنقید کرنے والوں کو جواب سننے کی ہمت بھی رکھنی چاہیے اور ریاست پر حملے کا جواب ضرور دیا جائے گا۔ وزیر داخلہ کی تقریر کے دوران اپوزیشن ارکان نے ایوان میں شور شرابہ اور ہنگامہ آرائی کی۔

محسن نقوی نے یہ ردعمل کیوں دیا؟

محسن نقوی کا یہ ردعمل مولانا فضل الرحمان کی قومی اسمبلی میں کی گئی تنقید کے جواب میں سامنے آیا، جس میں تہران کی ملاقات کو دفاعی معاہدے سے جوڑا گیا اور وزیر داخلہ کے دوروں پر سوال اٹھایا گیا۔ وزیر داخلہ کا مؤقف ہے کہ یہ دورے وزیراعظم کی ہدایت پر خطے کے بحران کے تناظر میں تھے اور مولانا نے ریاست کے خلاف نامناسب الفاظ استعمال کیے۔

جے یو آئی (ف) کی جانب سے وزیر داخلہ اور وزیر دفاع کے ان بیانات پر تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔