چینی سرحد پر طالبان اہلکاروں کو وارننگ، وخان راہداری میں کیا ہوا؟
بیجنگ/کابل: چینی سرحدی محافظوں نے افغانستان کی وخان راہداری میں سرحد کے قریب ایک ممنوعہ علاقے میں داخل ہونے والے طالبان اہلکاروں کو فوری طور پر وہاں سے دور ہونے کی وارننگ دی ہے۔ واقعے سے متعلق گردش کرنے والی ویڈیو میں چینی اہلکاروں کو سرحدی علاقے سے پیچھے ہٹنے کی ہدایت دیتے دیکھا جا سکتا ہے۔
افغان میڈیا ادارے افغانستان انٹرنیشنل کے مطابق ویڈیو میں چینی سرحد کے قریب حفاظتی انتظامات، خاردار باڑ، نگرانی کے کیمرے اور سیکیورٹی ٹاورز بھی دکھائی دیتے ہیں۔ تاہم ویڈیو ریکارڈ کیے جانے کی درست تاریخ واضح نہیں ہے۔
چینی سرحد پر طالبان اہلکاروں کے ساتھ کیا ہوا؟
رپورٹ کے مطابق ویڈیو میں چینی سرحدی محافظ پہلے انگریزی زبان میں طالبان اہلکاروں کو ممنوعہ علاقے سے نکلنے کی ہدایت دیتے ہیں۔ اس پر ایک طالبان اہلکار کہتا ہے کہ وہ انگریزی نہیں سمجھتے اور فارسی میں بات کرنے کی درخواست کرتا ہے۔
بعد ازاں چینی محافظ پشتو زبان میں بھی وارننگ دیتے ہیں اور انہیں علاقے سے دور رہنے کا کہتے ہیں۔
اس واقعے کی سامنے آنے والی ویڈیو نے افغانستان اور چین کے درمیان سرحدی سیکیورٹی اور وخان راہداری کی صورت حال پر توجہ بڑھا دی ہے۔ تاہم دستیاب معلومات سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ سرحد پار کرنے کی کوئی کامیاب کوشش ہوئی تھی۔
وخان راہداری کیا ہے اور چین کے لیے کیوں اہم ہے؟
وخـان راہداری افغانستان کے شمال مشرق میں واقع ایک تنگ اور پہاڑی خطہ ہے جو افغانستان کو چین کے سنکیانگ علاقے کے قریب پہنچاتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان سرحد دشوار گزار پہاڑی علاقے میں واقع ہے، جس کی وجہ سے یہاں آمدورفت اور تجارتی سرگرمیاں محدود رہی ہیں۔
چین اس سرحد پر سیکیورٹی کے حوالے سے حساس ہے۔ بیجنگ کو خدشہ ہے کہ افغانستان میں سرگرم شدت پسند گروہ سرحدی علاقے کو استعمال کرکے چینی علاقے سنکیانگ میں داخل ہونے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
اسی تناظر میں چین اور افغانستان کے درمیان سرحدی نگرانی اور دہشت گردی کے خلاف تعاون اہم سفارتی موضوعات رہے ہیں۔
چین نے افغان سرحد پر سیکیورٹی کیوں سخت کی؟
رپورٹس کے مطابق طالبان کے اگست 2021 میں افغانستان میں دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد چین نے سرحدی سیکیورٹی کے حوالے سے اپنے خدشات برقرار رکھے ہیں۔ سرحد کے قریب باڑ، نگرانی کے کیمرے اور دیگر حفاظتی تنصیبات اس علاقے کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہیں۔
چین افغان حکام سے بھی مطالبہ کرتا رہا ہے کہ وہ ایسے شدت پسند گروہوں کے خلاف کارروائی کریں جو چینی سیکیورٹی کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
چین کی تشویش صرف سرحدی نقل و حرکت تک محدود نہیں بلکہ اس کا تعلق سنکیانگ کے تحفظ اور افغانستان میں سرگرم مسلح گروہوں کے اثرات سے بھی ہے۔
افغانستان کی نئی سڑک اور چین کے ساتھ تجارت کا معاملہ
حالیہ دنوں میں افغانستان کی وخان راہداری میں چینی سرحد کی جانب تعمیر کی گئی سڑک بھی توجہ کا مرکز بنی ہے۔ طالبان انتظامیہ نے اس منصوبے کو چین کے ساتھ تجارت اور آمدورفت کے امکانات بڑھانے سے جوڑا ہے۔
تاہم سڑک کا چینی سرحد تک پہنچنا اور باقاعدہ تجارتی گزرگاہ کا کھلنا دو الگ معاملات ہیں۔ دستیاب رپورٹنگ کے مطابق چین نے اس راستے کو باقاعدہ تجارتی آمدورفت کے لیے کھولنے کا باضابطہ اعلان نہیں کیا۔
اس راستے کو فعال بنانے کے لیے سرحدی انتظامات، کسٹمز، سیکیورٹی اور بنیادی ڈھانچے سے متعلق معاملات حل کرنا ضروری ہوں گے۔
چین اور طالبان تعلقات پر ممکنہ اثرات
افغانستان اور چین کے درمیان اقتصادی روابط بڑھانے کی کوششیں جاری رہی ہیں، لیکن سرحدی سیکیورٹی دونوں ممالک کے لیے اہم معاملہ ہے۔ چین افغانستان میں اقتصادی مواقع سے فائدہ اٹھانے میں دلچسپی رکھتا ہے، تاہم وہ اپنی سرحد کے تحفظ کو بھی ترجیح دیتا ہے۔
وخـان راہداری میں پیش آنے والے تازہ واقعے سے یہ سوال دوبارہ سامنے آیا ہے کہ آیا مستقبل میں اس علاقے سے باقاعدہ تجارتی رابطے ممکن ہو سکیں گے یا نہیں۔
فی الحال دستیاب معلومات میں چینی حکام کی جانب سے سرحد کھولنے کا کوئی نیا باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔ آئندہ صورت حال کا انحصار دونوں ممالک کے سیکیورٹی تعاون، سرحدی انتظامات اور سفارتی رابطوں پر ہوگا۔







