جمعرات، 5 نومبر 2026
پاکستان

ہم ریاست ہیں، افغانستان ریاست نہیں، اسے اب بھی غیر ریاستی عناصر چلا رہے ہیں، یہ ایک رجیم ہے: ڈی جی آئی ایس پی آر

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے رائٹرز کو انٹرویو میں کہا کہ پاکستان ریاست ہے جبکہ افغانستان کو غیر ریاستی عناصر چلا رہے ہیں۔

شیئر کریں
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری

راولپنڈی: ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (ڈی جی آئی ایس پی آر) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان ایک ریاست ہے، جبکہ افغانستان ریاست نہیں، اسے اب بھی غیر ریاستی عناصر چلا رہے ہیں اور یہ ایک رجیم ہے۔

انہوں نے یہ بات 30 اکتوبر کو راولپنڈی میں بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کو دیے گئے انٹرویو میں کہی، جو اتوار کو سرکاری میڈیا کے ذریعے سامنے آیا۔

افغان طالبان رجیم پر مؤقف

ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ، امریکا اور دیگر کئی ممالک بھی افغانستان میں غیر ریاستی عناصر کی موجودگی کی نشاندہی کر چکے ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق افغان طالبان رجیم نے ٹی ٹی پی کے سربراہ نور ولی محسود، بشیر زیب اور گل بہادر جیسے دہشت گردوں کو پناہ دی ہے، پاکستان میں حملوں کے لیے دہشت گرد گروہ افغانستان سے آتے ہیں اور وہیں سے انہیں اسلحہ بھی ملتا ہے۔ انہوں نے افغانستان میں القاعدہ، داعش خراسان، ای ٹی آئی ایم اور آئی ایم یو جیسی تنظیموں کی موجودگی کا بھی ذکر کیا۔

بھارت کا کردار

انہوں نے الزام لگایا کہ پاکستان میں دہشت گردی کا سب سے بڑا سپانسر بھارت ہے، جبکہ ٹی ٹی پی اور بی ایل اے اس کی پراکسیز ہیں اور افغان طالبان رجیم بھی پراکسی کے طور پر کام کر رہا ہے۔

ڈرون خطرہ اور پاک فوج کی تیاری

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاک فوج افغانستان سے آنے والے ڈرونز سمیت ہر خطرے سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ان کے بقول افغانستان کی ڈرون صلاحیت اپنی نہیں بلکہ اسے سپانسرز فراہم کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فوج جدید ٹیکنالوجیز کو اپنا رہی ہے، تاہم ان کی تفصیل بتانے سے گریز کیا۔

تنہائی نہیں، ریاست جیسا رویہ

طالبان کے اس الزام پر کہ پاکستان طالبان مخالف عناصر کی سرپرستی کرتا ہے، انہوں نے اسے مسترد کیا اور کہا کہ وہ غیر ریاستی عناصر اور کرائے کے جنگجوؤں کے استعمال کے عادی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان افغانستان کو تنہا کرنے کا حامی نہیں، بلکہ عالمی برادری کو چاہیے کہ اس پر دباؤ ڈالے کہ وہ ایک ریاست کی طرح برتاؤ کرے۔ پاکستان کا واحد مطالبہ یہ ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہو، ورنہ اسے بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔

ذرائع: رائٹرز انٹرویو کی رپورٹنگ، بشمول ڈان، ایکسپریس ٹریبیون، جیو نیوز، ریڈیو پاکستان، دنیا نیوز اور اے آر وائی نیوز۔